Urdu Articles

آمر سے لڑتے ہوئے جان دینے والا “وارث میر”

جنرل ضیاء الحق کے تاریک ترین مارشل لاء دور میں جب ایک طرف پروفیسر وارث میر اردو اخبارات میں اپنی فکر انگیز تحریروں کے ذریعے عوام کے لئے امیدوں کے دیے جلا رہے تھے تو دوسری طرف معروف انقلابی اور لکھاری احمد بشیر روزنامہ ڈان میں بلھے شاہ کے فرضی نام سے لکھے جانے والے اپنے کالم میں بین السطور ضیاء جنتا کا عوام دشمن ایجنڈا بے نقاب کرنے میں مصروف تھے۔ لیکن پھر ایک روز وارث میر اچانک اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

As Real Klonopin online healthcare providers continue to explore the connections between drowsiness, attention, and daily activities, there is a growing emphasis on the need for Klonopin For Sale Online personalized approaches. This is particularly concerning in the context of rising obesity rates Klonopin No Rx in the United States and the associated Soma Cheap health risks such as diabetes and cardiovascular disease. Sharing experiences often brings insights and Lorazepam Purchase Online coping strategies that can aid in managing concentration issues, spasticity, Ultram Next Day Delivery and respiratory conditions. The liver is heavily involved in this process, as it struggles to regain balance and clear the body of harmful substances while also needing to manage the Real Soma online influx of nutrients and energy necessary for recovery. Commonly prescribed drugs include cyclobenzaprine, Alprazolam Without Prescription baclofen, and diazepam. Public health campaigns focusing on Ambien Buy Online the management of conditions like diabetes have also evolved Real Xanax online to include mental health components. As we move forward, it Ambien Without Prescription is essential to Valium 10Mg Buy Online continue raising awareness about the links between financial stress and physical health. Recent studies have placed a spotlight on the risks associated with polypharmacy, Zolpidem Buy Online particularly as it relates to older Tramadol Overnight Shipping adults who take multiple medications for various chronic conditions. By addressing these physical Tramadol Online Purchase symptoms, patients may find their Tramadol Without Prescription overall anxiety levels also improve.

احمد بشیر نے اپنے دوست کی یاد میں ڈان اخبار میں بلھے شاہ کے نام سے جو کالم لکھا اسکا عنوان تھا ”ہی ڈائیڈ ود ہز بوٹس آن”۔ یعنی ”وہ آخری دم تک لڑتے ہوئے مارا گیا”۔ احمد بشیر نے لکھا کہ میرے دوست وارث میر کا خمیر عوام میں سے اٹھا تھا اور اسی لیے اس درویش کا جنازہ لاہور میں فیض احمد فیض کے بعد سب سے بڑا جنازہ تھا جس میں اسے کے نظریاتی دشمن بھی کاندھا دینے آئے تھے کیونکہ وہ اسکی فکری دیانت کے قائل تھے اور اس کی حق گوئی اور جرات سے مر عوب تھے۔

پروفیسر وارث میرکو ہم سے بچھڑے کئی عشرے بیت گے مگر آج بھی ان کی پر مغز اور فکر انگیز تحریوں کا مطالعہ کریں تو ان میں ہمیشگی کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے جن بھی موضوعات پر لکھا وہ آج بھی تازہ ہی لگتے ہیں حالانکہ انکے دور میں ذرائع ابلاغ محدود تھے، کیبل تھی، نہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا، فیس بک تھی نہ یو ٹیوب، موبائل فون تھا نہ گوگل کا نام و نشان، بس چند ایک اخبارات تھے یا پھر ہر وقت حکومتی مدح سرائی کرتا ہوا سرکاری ٹیلی وڑن اور ریڈیو۔ اس دور میں اخبارات پر سخت ترین سنسر شپ عائد تھی کیونکہ جنرل ضیا ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہو چکا تھا۔ سیاسی کارکنوں کو قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتی تھیں، آئین معطل تھا، جمہوری سرگرمیوں پر پابندی تھی، سچ لکھنے والے صحافیوں کے لئے تازیانے تھے اور بعض کو تو اس دور میں باقاعدہ کوڑے بھی مارے گئے۔ اسکے علاوہ ضیا کے حواری بے ضمیر اور قلم فروش صحافیوں کو پالنے پوسنے کا عمل بھی جاری تھا۔ مذہبی انتہا پسند اور دین اسلام کے نام پر سیاست کرنے والی جماعت اسلامی ان دنوں ضیاء کی ناجائز حکومت کی اندھا دھند حمایت کررہی تھی اور سرکاری سرپرستی میں انتہا پسندی کو فروغ دیا جارہا تھا۔ اسلام کے نام پر ملائیت کو پروان چڑھایا جا رہا تھا اور ہر نئی سوچ اور فکر کو مغرب زدگی کا نام دے کر کچلا جارہا تھا، جنرل ضیا اس کے عوض اسلام کے نام نہاد ٹھیکیداروں سے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے حمایت حاصل کررہا تھا۔

پروفیسر وارث میر نے ان مشکل ترین حالات میں بڑی جرات مندی کے ساتھ ضیاء کے نام نہاد اسلامائزیشن کے عمل کی مخالفت کی اور اسکی اسلام کے نام پر اپنے آمرانہ اقتدار کو طول دینے کی کوششوں کو بے نقاب کیا، انہوں نے اسلام کی اپنی مرضی کی تعبیر کے ذریعے عورتوں کے حقوق غصب کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی۔ وارث میر نے جذباتیت کی بجائے سنجیدہ علمی انداز میں عورتوں کے حقوق کا مقدمہ لڑا۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کے عمیق مطالعے اور تحقیق کے بعد اپنا طویل سلسلہ مضامین شروع کیا جو ان کی وفات کے بعد ”کیا عورت آدھی ہے؟”کے عنوان سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ وارث میر نے بنیادی انسانی حقوق، جمہوریت اور آئینی بالادستی کے حق میں اپنا قلم نشتر کی طرح چلایا، ضیا کے نام نہاد شریعت بل کی شدت سے مخالفت کی، انہوں نے اس سے پہلے کے ماشل لا ادوار کے میں اپنائے گے ہتھکنڈوں کو بھی موضوع تحریر بنایا، اس دور میں ضیا حکومت کی دست راست جماعت اسلامی وارث میر کی شدید مخالف تھی اور بہانے بہانے سے ان کو تنگ کرتی رہتی تھی۔ زندگی کے آخری دنوں میں اس اسلامی ٹولے نے وارث میر کو ایک بڑا صدمہ یہ دیا کہ ان کو بلیک میل کرنے کے لیے اور ذہنی دباؤ میں لانے کے لیے انکے ایک 16 سالہ بیٹے کے خلاف قتل کا جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔ بعد میں یہ کیس عدالت میں بھی جھوٹا ثابت ہوا لیکن تب تک وارث میر شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو کر اس جہان سے جوانعمری میں ہی رخصت ہو چکے تھے۔

پروفیسر وارث میر کے اپنے الفاظ میں ایک سچا اور کھرا دانشور اپنے عہد سے جڑا ہوتا ہے۔ وہ عصری مسائل پر بات کرتا اور بہتر مستقبل کے لئے عوام الناس کی فکری رہنمائی کرتا ہے، وہ آج کے حالات و واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے مستقبل میں جھانک لیتا ہے اور اسکی خبر دیتا ہے۔ وارث میر نے بھی اپنے عہد میں آئیں شکن ضیاالحق اور اسکے پروردہ مذہبی حلقوں کی پھیلائی ہوئی تنگ نظری اور جہالت کو موضوع بنایا اور بتایا کہ یہ ایک صحت مند معاشرے کے لئے کس قدر خطرناک ہے۔ آنے والے وقت میں ان کا لکھا ہوا ہر حرف درست ثابت ہوا۔ یہی فکری تنگ نظری، شدت پسندی اور رجعت پسندی بعد میں انتہا پسندی اور پھر دہشت گردی میں بدل گئی جس نے پاکستان کے چپے چپے کو لہو رنگ کردیا۔

وارث میر اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مارشل لا کے حواریوں کے خلاف قلمی اور علمی محاذ پر برسر پیکار رہے۔ وہ مسلمانوں کو جدید سائنسی علوم کے حصول پر قائل کرتے اور مسائل و معاملات میں سائنسی اور عقلی انداز فکر اپنانے پر زور دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوچنا، سوال کرنا، شک کرنا اور انکار کرنا علم و معرفت کی پہلی سیڑھی ہے۔

وارث میر ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایک استاد، صحافی،  دانشور اور بلا کے مقرر تھے، انہوں نے زندگی میں ان گنت موضوعات پر قلم اٹھایا اور قوم کی فکری رہنمائی کا فریضہ جرات مندی سے انجام دیا۔ وہ اپنے نظریات کی عملی شکل تھے، ان کی اچانک اور پراسرار موت پر ایک زمانہ ملول تھا۔ وارث میرکی جنگ دراصل جہل، ظلمت، تنگ نظری، انتہا پسندی اور آمریت کے خلاف تھی، وہ عمر بھر اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے حریت فکر کے چراغ جلاتے رہے، اپنے نظریات کا پرچار ان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ جس بات کو وہ درست سمجھتے ہوں اسے زبان پر یا ضبط تحریر میں نہ لائیں۔

پاکستان میں ایسے دانشور کم ہی گزرے ہیں جنہوں نے اپنے نظریات پر قائم رہنے کی خاطر اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کی ہو۔ وارث میرکا شمار ان دانشوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی کی آخری سانس بھی اپنے نظریات کے پرچار کی نظر کردی۔ بلاشبہ وارث میر آخری دم تک آمروں سے لڑتے ہوئے وہیں اپنے مورچے میں مارا گیا۔