Urdu Articles

ریڈیو پاکستان کے لیے پروفیسر وارث میر کا نایاب انٹرویو

میزبان منور حفیظ:
آج ہمارے پروگرام میں معروف استاد، صحافی، دانشور اور لکھاری پروفیسر وارث میر موجود ہیں۔ ان سے بہت سی باتیں ہوں گی، لیکن پہلے میں آپ کو اس زمانے میں لے جانا چاہتی ہوں جب آپ پروفیسر اور استاد نہیں بلکہ خود طالب علم تھے اور دوسرے بزرگ آپ کے استاد ہوا کرتے تھے۔ کیا وہ زمانہ آپ کو یاد ہے؟

پروفیسر وارث میر:
جی ہاں، وہ زمانہ مجھے بخوبی یاد ہے اور میرے خیال میں ہر سلیم الطبع انسان کو اپنے طالب علمی کے زمانے کو یاد رکھنا چاہیے۔ اس لیے کہ اس زمانے کو یاد کرتے ہوئے انسان اپنی شخصیت کے مختلف نشیب و فراز اور اپنے خیالات کا بھی تجزیہ کر سکتا ہے۔
میری زندگی میں طالب علمی کے دو ادوار خاص طور پر اہم رہے: اسکول اور کالج۔ کالج کے زمانے میں بعض اساتذہ اور دوستوں نے میرے خیالات اور مستقبل کی زندگی کے رخ پر اثر ڈالا، لیکن اسکول کے زمانے کی ایک شخصیت کا اثر آج تک میرے ساتھ ہے۔

گورنمنٹ ہائی سکول سیالکوٹ میں میرے ایک استاد تھے، سید یوسف حسین، جو مجھے فارسی پڑھاتے تھے۔ انہوں نے صرف فارسی نہیں پڑھائی بلکہ میرے اندر زبان کا شعور، زبان کا ذوق اور اسے سمجھنے اور برتنے کی بصیرت پیدا کی۔ آج جب میں انہیں یاد کرتا ہوں اور بعد میں آنے والے بڑے بڑے علماء، فضلاء اور بڑی ڈگریاں رکھنے والے لوگوں سے ان کا تقابل کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ علم کے پھیلاؤ کے باوجود ان لوگوں کا ذاتی اثر میرے اس ساتویں یا آٹھویں جماعت کے استاد جتنا گہرا نہیں تھا۔
سید یوسف حسین اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ان کے بڑے بھائی سید توحید سیالکوٹی اردو اور فارسی کے معروف شاعر تھے، اور ان کی اولاد آج بھی زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

میزبان:
پروفیسر صاحب، نصابی کتابیں آپ سکول میں باقاعدگی سے پڑھتے تھے یا نہیں؟

پروفیسر وارث میر:
نہیں، میں سمجھتا ہوں کہ میں نے نصابی کتابیں کم اور غیر نصابی کتابیں زیادہ پڑھیں۔ امتحانات میں بھی جو کچھ لکھتا تھا، اس میں اساتذہ کے ساتھ میرے ذاتی تعلق کا بھی خاصا دخل ہوتا تھا۔ نصابی کتاب پڑھنے کے معاملے میں شاید میں کچھ کمزور واقع ہوا۔

میزبان:
تو پھر امتحان کیسے پاس کرتے تھے؟

پروفیسر وارث میر:
میں نے عرض کیا نا کہ میں عموماً وہ کتاب کم پڑھتا تھا جو کلاس روم میں کھلی ہوتی تھی۔ کالج، دوستوں کی محفلوں اور لائبریری میں جو کتابیں بکھری ہوئی ملتی تھیں، ان میں میری زیادہ دلچسپی ہوتی تھی۔

میزبان:
آج اگر آپ اپنے کسی شاگرد کو مشورہ دیں تو کیا اسے بھی وہی کچھ کرنے کا کہیں گے جو آپ نے کیا؟

پروفیسر وارث میر:
نہیں، میں یہ نہیں کہوں گا کہ وہ میری طرح بنے۔ مجھے خود نہیں معلوم کہ میں اس کے لیے قابلِ تقلید ہوں یا نہیں۔ البتہ میں اپنے شاگردوں سے یہ ضرور کہتا ہوں کہ نصابی کتابوں کے علاوہ غیر نصابی کتابیں پڑھیں، علم کے دوسرے شعبوں کا مطالعہ کریں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی اس بڑی کتاب کو بھی پڑھیں جسے ہم معاشرہ کہتے ہیں۔
میں چونکہ صحافت کا استاد ہوں، اس لیے سمجھتا ہوں کہ صرف کتابیں پڑھنے سے کوئی کامیاب صحافی نہیں بن سکتا۔ صحافت کا تعلق کتاب سے کم اور فیلڈ سے زیادہ ہے۔ کتابیں ضرور پڑھیں، لیکن اس کتاب کو بھی پڑھیں جس کے صفحات آپ کے اردگرد پھیلے ہوئے ہیں؛ یعنی اپنے معاشرے، اپنے لوگوں، دوسرے معاشروں اور روزمرہ زندگی کا مطالعہ کریں۔

میزبان:
یہ بتائیے کہ لفظوں کے اس کھیل کے علاوہ آپ خود کوئی کھیل بھی کھیلا کرتے تھے؟

پروفیسر وارث میر:
جی ہاں، بہت سے کھیل کھیلے۔ ایک زمانے میں کرکٹ کھیلی، ہاکی کھیلی، اس سے پہلے فٹ بال کھیلا، اس سے بھی پہلے کبڈی کھیلی اور بچپن میں کشتی بھی لڑی۔

میزبان:
اچھا! یعنی کوئی کھیل نہیں چھوڑا؟

پروفیسر وارث میر:
آپ یوں سمجھ لیں کہ کبڈی سے شروع ہوا اور کرکٹ تک پہنچ گیا۔

میزبان:
تو کیا آپ کے خیال میں کبڈی کوئی sophisticated کھیل نہیں؟

پروفیسر وارث میر:
میں یہ بات اس مفہوم میں نہیں کہہ رہا کہ کبڈی کوئی کم تر کھیل ہے۔ ہمارے معاشرے میں بعض الفاظ کے ساتھ کچھ مخصوص تصورات وابستہ ہو جاتے ہیں۔ مثلاً کبڈی کھیلنے والے یا کشتی لڑنے والے کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ شاید وہ ذہنی اور فکری طور پر وہ کردار ادا نہیں کرتے جو کرکٹ کھیلنے والا کرتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم بعض اوقات اپنی زمین، اپنی تہذیب اور اپنے معاشرے سے رشتہ توڑ کر مصنوعی تہذیبی نمونے اختیار کر لیتے ہیں۔ ہم زندگی، علم، تہذیب اور ثقافت کے مصنوعی مزار بنا لیتے ہیں اور پھر ان کے گنبد میں بند ہو کر ساری عمر اپنی ہی صدا سنتے رہتے ہیں۔

میزبان:
لیکن بطور استاد اور صحافی آپ کی ذمہ داری تو یہ بھی ہے کہ ایسے غلط تصورات کی اصلاح کریں؟

پروفیسر وارث میر:
بالکل۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے کبڈی اور دوسرے کھیلوں کی مثال دیتے ہوئے اسی رویے کی مذمت کی ہے۔ ہمیں اپنی تہذیب اور اپنی زمین سے رشتہ نہیں توڑنا چاہیے۔

میزبان:
اب کتابوں کی طرف آتے ہیں۔ طالب علمی کے زمانے میں آپ کس قسم کی کتابیں پڑھتے تھے؟

پروفیسر وارث میر:
میں نے آٹھویں، نویں جماعت ہی میں غیر نصابی کتابیں پڑھنا شروع کر دی تھیں۔ اس میں میرے والد صاحب کے شاعر ہونے کا بھی اثر تھا۔ آپ یقین کریں گے کہ نویں جماعت میں ہی میں نے مولانا شبلی نعمانی کی سیرت النبیؐ کی تمام جلدیں پڑھ لی تھیں۔ میٹرک تک مذہب، نفسیات اور ادب، ان تینوں شعبوں کا مطالعہ تقریباً متوازی طور پر جاری رہا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میری طبیعت میں کسی ایک فکری رخ کی یک طرفگی پیدا نہیں ہوئی۔

جو لوگ مجھے پڑھتے یا سنتے ہیں، وہ کبھی کبھی اعتراض کرتے ہیں کہ میری گفتگو میں وہ ’’کمٹمنٹ‘‘ نظر نہیں آتی جو کسی ایک واضح فکری مکتب کے ساتھ وابستگی میں نظر آتی ہے۔ بعض لوگ اسے خوبی بھی سمجھتے ہیں۔ لیکن مختلف شعبوں کے متوازی مطالعے نے مجھے یہ حوصلہ اور شعور دیا کہ میں کسی مسئلے کے مختلف پہلو، اس کے مالہٗ و ماعلیہ اور اس کے مثبت و منفی دونوں رخ سامنے رکھ کر بات کروں۔ اس طرح گفتگو جذبات کو کم اور عقل و شعور کو زیادہ اپیل کرتی ہے۔

میزبان:
ہمارے ہاں کمٹمنٹ کی بحث بہت ہوتی ہے۔ فلاں شخص committed ہے، فلاں نہیں۔ میرے خیال میں اگر انسان زندگی میں سچائی، خوبصورتی اور نیکی کے ساتھ committed ہو تو شاید اتنا ہی کافی ہے۔

پروفیسر وارث میر:
میں اس سے بھی ایک قدم آگے جاؤں گا۔ خیر، صداقت، نیکی اور حسن اگر آپ کی بنیادی اقدار ہیں اور آپ اپنے معاشرے، اپنی سوسائٹی، اپنے ملک اور اپنی کلاس کے اندر ایسا کردار ادا کرتے ہیں جس سے یہ خوبیاں پیدا ہوں تو آپ کی کمٹمنٹ صرف بنیادی انسانی اقدار سے نہیں بلکہ معاشرے اور ملک سے بھی ہے۔

میزبان:
اور اپنے دین سے بھی۔

پروفیسر وارث میر:
جی، اپنے دین سے بھی، کیونکہ دین بنیادی طور پر خیر اور صداقت ہی کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن سچی کمٹمنٹ کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص کی اپنی ذات میں وہ کمٹمنٹ موجود نہیں تو وہ معاشرے پر گہرا اثر نہیں ڈال سکتا۔

میزبان:
آپ نے نفسیات میں اپنی دلچسپی کا ذکر کیا۔ یہ دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟

پروفیسر وارث میر:
نفسیات میں میری دلچسپی بہت حد تک سوانح عمریوں کے مطالعے سے پیدا ہوئی۔ آج بھی میری یہ دلچسپی برقرار ہے۔ جب کوئی شخص اپنی زندگی خود لکھتا ہے تو وہ اپنی ذات کا ویسا تجزیہ نہیں کر سکتا جیسا کوئی دوسرا شخص یا ماہرِ نفسیات کر سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود سوانح عمریاں انسان کو سمجھنے کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔

میں کوئی کتاب پڑھنے سے پہلے اس کے مصنف کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ مجھے تجربے سے یہ احساس ہوا ہے کہ بعض اوقات مصنف کتاب میں اپنے قارئین کو ’’ڈاج‘‘ کر جاتا ہے۔ یعنی کتاب میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے، اس کی کمٹمنٹ اس کی اپنی ذات میں دکھائی نہیں دیتی۔
اس لیے میرے لیے کتاب اور مصنف کی شخصیت دونوں اہم ہیں۔

میزبان:
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صرف انہی کتابوں کو اہم سمجھتے ہیں جن کے مصنف خود بھی ان کے پیغام پر عمل کرتے ہوں؟

پروفیسر وارث میر:
ضروری نہیں۔ بعض کتابوں سے اختلاف کرکے بھی بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میرے نزدیک اچھی کتاب وہ ہے جو مثبت یا منفی، کسی بھی طرح آپ کو سوچنے پر مجبور کرے۔ بیکن نے کتابوں کے بارے میں کہا تھا کہ کچھ کتابیں چکھنے کے لیے ہوتی ہیں، کچھ نگلنے کے لیے اور کچھ ہضم کرنے کے لیے۔ میری نظر میں بھی کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دور سے دیکھ کر چھوڑ دینا بہتر ہے، کچھ کا سرسری مطالعہ کافی ہے اور کچھ ایسی ہوتی ہیں جنہیں انسان اپنی فکری زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے۔ بعض اوقات کسی مصنف کی شخصیت کے تضادات بھی کتاب کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ کتاب پڑھتے ہوئے ان تضادات سے علمِ نفس کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

میزبان:
کیا نفسیات کے مطالعے نے آپ کو مذہب کی طرف بھی متوجہ کیا؟

پروفیسر وارث میر:
جی ہاں۔ میرے فکری سفر میں ایک ایسا دور بھی آیا جسے ہم تشکیک کا دور کہہ سکتے ہیں۔ میں اپنی تشکیک کو مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح بیان کرنے کا دعویٰ نہیں کرتا، لیکن مجھے ان شخصیتوں کے مطالعے میں ہمیشہ دلچسپی رہی جو خود تشکیک کے مراحل سے گزرے۔
ہمارے دینی رہنماؤں میں مولانا ابوالکلام آزاد ایک اہم مثال ہیں۔ اس سے پہلے امام غزالی کی زندگی بھی ہمارے سامنے ہے۔ اور آج کل میں مولانا عبدالماجد دریابادی کی آپ بیتی پڑھ رہا ہوں۔ وہ اپنی جوانی میں دہریے ہوئے، مذہبی ادارے اور خدا کے تصور سے بغاوت کی، ایسی کتابیں اردو میں منتقل کیں جو انسان کو تشکیک کی طرف لے جاتی تھیں، لیکن بعد میں مذہب کی طرف واپس آئے اور انتہائی پختہ مذہبی شخصیت بن گئے۔
ان کی آپ بیتی میں بہت سی ایسی باتیں ملتی ہیں جو مجھے اپنی ذات کا عکس محسوس ہوتی ہیں۔ میں بھی دین، خدا اور پاکستان کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کی طرف ایک ایسے راستے سے آیا جس میں تشکیک کے مراحل شامل تھے۔ میرا خیال ہے کہ اگر میں نے وہ راستے طے نہ کیے ہوتے تو شاید آج میرا ایمان اور اپنے ملک کے ساتھ میری وابستگی اتنی مضبوط نہ ہوتی۔

میزبان:
اس فکری سفر میں کون سی چیز آپ کے لیے سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوئی؟

پروفیسر وارث میر:
کتابوں سے زیادہ جس چیز نے میری مدد کی وہ خطبۂ حجۃ الوداع تھا۔ کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں ہم ترقی پسند تحریک، افسانہ، ناول، ادب اور فلسفے کا مطالعہ کرتے تھے۔ دوستوں اور اساتذہ کے ساتھ بحثیں ہوتی تھیں۔ کبھی روسی ناول نگار، مفکر اور فلسفی فیوڈور دوستیو فسکی زیرِ بحث آتے، کبھی آسٹریا سے تعلق رکھنے والے یہودی نژاد جرمن ادیب فرانز کافکا بارے گفتگو ہوتی، کبھی نوبیل انعام یافتہ فرانسیسی فلاسفر اور ناول نگار البرٹ کامیو کا فلسفۂ بے معنویت بحث کا موضوع بنتا تو کبھی معروف امریکی ماہر نفسیات اور مفکر ولیم جیمز کے مذہبی تجربات پر گفتگو ہوتی، کبھی سگمنڈ فرائیڈ اور کارل ینگ جیسے ماہرین نفسیات کے ذریعے انسانی شعور اور اجتماعی لاشعور کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی۔

اس دور میں ہم انسانی برادری اور ایک بین الاقوامی معاشرے کی بات کرتے تھے۔ اپنی قوم، ملک اور نسل کی حدود سے نکل کر پوری انسانیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اسی تلاش کے دوران ہم حجۃ الوداع تک پہنچے۔ جب میں نے خطبۂ حجۃ الوداع کے پیغامات پر غور کیا تو محسوس ہوا کہ کئی سو سال پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کے ذریعے انسانیت کو وہ اصول عطا کر دیے تھے جنہیں ہم اپنی فکری گمراہیوں کی وجہ سے اپنے صحیح سیاق و سباق میں سمجھنے کے بجائے ادھر ادھر تلاش کرتے پھرتے ہیں۔

خطبۂ حجۃ الوداع کا یہ پیغام کہ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر کوئی برتری نہیں، اور فضیلت صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہے، آج بھی پوری انسانیت کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح زمانۂ جاہلیت کی رسموں کے خاتمے، پرانے خون کے انتقام معاف کرنے، عورتوں کے حقوق، مسلمانوں کے باہمی بھائی چارے اور ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنے کے حوالے سے بھی خطبۂ حجۃ الوداع ایک مکمل انسانی منشور ہے۔

میزبان:
یعنی ایک مکمل دستور؟

پروفیسر وارث میر:
جی، ایک مکمل دستور۔ بشرطیکہ انسان خود کو محض انسانی ساختہ سیاسی اور اقتصادی فلسفوں تک محدود نہ کرے اور اس نقطۂ نظر کو بھی قبول کرے کہ اللہ کی طرف سے آنے والا پیغام انسانی فلسفوں سے بلند تر رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔

میزبان:
ادب میں آپ کو کس قسم کی کتابوں سے دلچسپی رہی؟

پروفیسر وارث میر:
میں نے تقریباً ہر قسم کی کتاب پڑھی ہے، حتیٰ کہ جاسوسی ادب بھی۔ مجھے کوئی ایسا ایک ماحول، محرک یا رہنما میسر نہیں آیا جس کے بارے میں کہہ سکوں کہ فلاں شخصیت نے میری انگلی پکڑی اور مجھے اس راستے پر چلایا۔ میں نے اپنا راستہ خود تلاش کیا۔
مذہب پڑھا، ادب پڑھا، افسانے اور ناول پڑھے، معاشرتی اور اصلاحی ادب پڑھا، خواتین کے لکھے ہوئے ناول پڑھے، اردو ادب کی تنقید پڑھی۔ ان سب کے نتیجے میں میرے اندر جو شخص نمودار ہوا، وہ اللہ پر زیادہ پختہ ایمان رکھنے والا شخص تھا۔

میزبان:
آپ نے اتنا وسیع مطالعہ کیا، لیکن اس کے ساتھ لکھنے اور پڑھانے کے لیے بھی وقت نکالا۔ یہ سب کچھ آپ نے کیسے کیا؟

پروفیسر وارث میر:
دراصل میں نے اپنا وقت صرف پیسہ کمانے یا جائیداد بنانے میں نہیں لگایا۔ میں نے جو بھی پڑھا، اسے طلبہ تک پہنچایا اور آج بھی پڑھ رہا ہوں۔ اگرچہ میں مسلسل لکھتا بھی ہوں، لیکن میرا خیال ہے کہ ابھی تک میں نے کچھ نہیں لکھا۔

میزبان:
آپ نے کہا کہ کتاب شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کیا یہ اثر وقتی ہوتا ہے یا انسان اسے اپنی زندگی کا حصہ بھی بنا لیتا ہے؟

پروفیسر وارث میر:
کتاب سے متاثر ہونا ایک بات ہے اور اس تاثر کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا کر اس کے پیغام کو اپنی زندگی کے سفر کا حصہ بنا لینا بالکل دوسری بات ہے۔ اس کا تعلق انسان کی سائیکی سے ہے۔ آپ کسی چیز کو اچھا اور قابلِ تقلید سمجھ سکتے ہیں، لیکن اس پر کس حد تک عمل کر سکتے ہیں، یہ الگ سوال ہے۔ میں اپنے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں نے فلاں کتاب سے فلاں اصول حاصل کیا اور آج تک اس پر عمل پیرا ہوں۔ البتہ اصول پسندی میری زندگی کا ایک جوہر ضرور ہے اور میں جہاں تک ممکن ہو اسے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ قرآن اور احادیث کے علاوہ میں کسی ایک کتاب کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں نے اسے اپنی زندگی کا مکمل فلسفہ بنا لیا۔

میزبان:
کوئی ایسی کتاب جس نے آپ کو خاص طور پر متاثر کیا ہو؟

پروفیسر وارث میر:
جی، ایک کتاب یاد آتی ہے۔ یہ معروف چینی مفکر لن یوتانگ کی کتاب تھی۔ وہ امریکی مصنف ڈیل کارنیگی کی لکھی گئی کتاب کی طرح نہیں تھی جس میں یہ بتایا جائے کہ صبح گھر سے نکلتے وقت مسکرائیں، لوگوں کے نام یاد رکھیں وغیرہ۔ اس میں زندگی بسر کرنے کا ایک ہلکا پھلکا مگر قابلِ عمل فلسفہ بیان کیا گیا تھا۔
لیکن اس کتاب کا ایک پہلو میرے لیے بہت دلچسپ تھا۔ کتاب لکھنے والا خود اپنے بیان کیے گئے فلسفے سے آگے بڑھ گیا۔ اس نے بعد میں اعتراف کیا کہ انسان کو حقیقی سکونِ قلب مذہب اور خدا کے تصور میں ملتا ہے۔ لہٰذا میرے لیے یہ بات بہت معنی رکھتی تھی کہ میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا اور اسی دوران اس کا مصنف اپنے سابقہ فکری مقام سے ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے آگے بڑھ کر ایک نئی منزل تک پہنچ رہا تھا۔ یوں کتاب کے ساتھ ساتھ مصنف کے فکری سفر نے بھی مجھے ایک نیا شعور دیا۔

میزبان:
پروفیسر صاحب، زندگی تو بہت جہت رکھنے والی چیز ہے۔ اس کا کوئی ایک رخ نہیں۔ کیا مختلف کتابیں بھی زندگی کے مختلف پہلو سامنے لاتی ہیں؟

پروفیسر وارث میر:
بالکل۔ زندگی کے اتنے رنگ ہیں کہ ہر رنگ ایک ہی نظر میں دکھائی نہیں دیتا۔ مختلف کتابوں میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کی سچائیاں سامنے آتی ہیں۔ کسی کتاب میں ایک سچائی ہے، کسی میں دوسری۔
اب یہ پڑھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ ان مختلف سچائیوں کو کس طرح جمع کرتا ہے اور ان سے اپنے لیے کیا نتائج اخذ کرتا ہے۔
میں نے زندگی کے مطالعے سے جو نتیجہ اخذ کیا، وہ یہ ہے کہ اگر انسان سچائی کے ساتھ زندگی بسر کرے تو غالباً خدا کی تخلیق کا مقصد پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

سچائی انسان کو منافقت اور مصلحت کوشی سے محفوظ رکھتی ہے۔ لیکن سچائی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپ دوسروں کے جذبات اور معتقدات کو نظر انداز کر دیں۔ اگر آپ سچ بات دوسروں کے جذبات اور عقائد کو سامنے رکھتے ہوئے سمجھانے کے عادی ہیں تو آپ انسانیت کے قافلے کو بہتری کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

میزبان:
تو کیا مختلف کتابوں اور مختلف علوم کا مطالعہ سیاسی اور سماجی تحریکوں کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے؟

پروفیسر وارث میر:
یقیناً۔ دنیا کی کسی بھی تحریک کو خواہ وہ قومی ہو، بین الاقوامی، ادبی یا سیاسی، اسے زیادہ بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے اگر آپ کو افراد اور قوموں کی اجتماعی نفسیات سمجھنے کا شعور حاصل ہو۔ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آج جو کچھ ہم کر رہے ہیں، اس کا آنے والی نسلوں پر کیا نفسیاتی اثر پڑے گا۔
اپنے کسی ایک نقطۂ نظر پر اس طرح اڑ جانا کہ دوسرے شخص سے آپ کی گفتگو اور رابطہ ہی ختم ہو جائے، درست رویہ نہیں۔ بعض اوقات دوسرے کے مسائل کو سمجھنا اور اس کے نقطۂ نظر کا احترام کرنا بھی سچائی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔

میزبان:
جی بالکل۔ آپ کی اس بہت سچی بات کے ساتھ میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں اور سامعین سے اجازت چاہتی ہوں۔

پروفیسر وارث میر:
بہت شکریہ۔

میزبان:
تب تک کے لیے خدا حافظ۔
پروفیسر وارث میر:
خدا حافظ۔