Urdu Articles

کراچی یونیورسٹی میں شریعت، اجتہاد اور عصرِ حاضر موضوع پر پروفیسر وارث میر کی تقریر کا سکرپٹ

میں ایک صحافی ہوں؛ ایسا صحافی جسے پڑھنے لکھنے کا جنون کی حد تک شوق ہے اور جو اپنے موضوعات کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے۔ لیکن میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں عالمِ دین ہوں۔ میری آج کی گفتگو میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں کے حوالہ آئیں گے کیونکہ بحیثیت صحافی میرے لیے اپنے عہد کے مسائل سے لاتعلق رہنا ممکن نہیں۔

میں ان لوگوں میں سے نہیں جو محض مبہم اور مجرد باتیں کرتے ہیں۔ میں جس عہد میں زندگی گزارتا ہوں، اس عہد کے مسائل پر بات کرنا اور ان کے بارے میں لکھنا میری پیشہ ورانہ ذمہ داری بھی ہے۔ اس راستے میں مشکلات بھی آتی ہیں اور دوستوں اور دشمنوں دونوں کے پیدا کردہ مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے ان اہم بات یہ ہے کہ اپ حق اور سچ بات کرتے رہیں۔

آج میں خاص طور پر شریعت، اسلامی قانون اور اجتہاد کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے معاشرے میں لفظ ’شریعت‘ کے ساتھ بعض اوقات ایسا خوف وابستہ کر دیا جاتا ہے جیسے یہ کوئی ناقابلِ بحث یا جامد تصور ہو۔ فقہائے اسلام عام طور پر ’’قانون‘‘ کی بجائے ’’شریعت‘‘، ’’حکمِ شرعی‘‘ اور ’’فقہ‘‘ جیسی اصطلاحیں استعمال کرتے رہے ہیں، جبکہ آج ہم قانون اور Law کی اصطلاحات سے واقف ہیں۔

اسلامی قانون سازی کی بنیادی بنیادیں قرآنِ کریم، سنتِ نبوی، اجماع اور قیاس ہیں۔ اس لیے شریعت کو سمجھنے کے لیے اس کے بنیادی مقاصد اور اصولوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
حافظ ابنِ قیم نے اپنی معروف کتاب اعلام الموقعین میں شریعت کے بنیادی تصور کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق شریعت کی بنیاد عدل، رحمت اور حکمت پر ہے۔ جو چیز عدل سے نکل کر ظلم، رحمت سے نکل کر زحمت، مصلحت سے نکل کر فساد اور حکمت سے نکل کر بے ہودگی بن جائے، وہ شریعت نہیں ہو سکتی، خواہ تاویلات کے ذریعے اسے شریعت کا نام دے دیا جائے۔

حافظ ابنِ قیم کے نزدیک شریعت اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے درمیان عدل، اپنی مخلوق کے لیے رحمت اور اپنی زمین پر حکمت کا اظہار ہے۔ وہ اسے اللہ کی ہدایت، نور، شفا اور انسان کی فلاح کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ اس تصور کے مطابق شریعت کا بنیادی مقصد انسانی زندگی کو بہتر بنانا، عدل قائم کرنا اور انسان کو درست راستہ دکھانا ہے۔
لہٰذا جو چیز رحمت، حکمت، حیات اور نور کا ذریعہ ہو، اسے جامد، غیر متحرک اور زندگی کے بدلتے ہوئے حالات سے بے نیاز نہیں سمجھا جا سکتا۔

اسی سلسلے میں احمد زکی یمانی نے دنیا کے مختلف قوانین کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنی کتاب اسلامی قانون اور عصرِ حاضر کے مسائل میں شریعت کو ایسی نشوونما پانے والی حقیقت قرار دیا ہے جو انسانی ضرورتوں کے مطابق اپنے اظہار کی صورتیں پیدا کرتی ہے اور بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔ یہی بات ہمیں شاہ ولی اللہ کے ہاں بھی ملتی ہے۔ انہوں نے حجۃ اللہ البالغہ میں اس امر پر زور دیا کہ ہر عہد میں مسلمانوں کے لیے اجتہاد ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی مسائل محدود نہیں بلکہ لامحدود ہیں، جبکہ ہمارے پاس مدون فقہی ذخیرہ اپنی تمام تر اہمیت کے باوجود ہر نئے مسئلے کا براہِ راست جواب فراہم نہیں کرتا۔ فقہی ذخیرے میں اختلاف بھی موجود ہے، اس لیے دلائل کو سمجھے بغیر اس اختلاف کو حل نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا غلامی کی حالت میں حقیقی اجتہاد ممکن ہے؟
میرے خیال میں آزاد معاشرہ اجتہاد کے لیے بنیادی شرط ہے۔ کچھ عرصہ قبل مجھے بھارت جانے کا موقع ملا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ مسلمان خواتین بعض ایسے اسلامی قوانین کے تحفظ کی جدوجہد کر رہی ہیں جن پر پاکستان جیسے مسلم ملک میں بعض لوگ تنقید کرتے ہیں۔ اس تجربے نے مجھے اس حقیقت کو سمجھنے میں مدد دی کہ غلامی یا سیاسی محکومی میں مذہبی تصورات بعض اوقات قومیں اپنے وجود کے تحفظ کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ آزادی کے ماحول میں وہی معاشرہ اپنے مذہبی اصولوں کے نئے تقاضوں اور نئی معنویت پر غور کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

ڈاکٹر علامہ اقبال نے بھی اسی بنیادی تصور کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے Reconstruction of Religious Thought in Islam میں شاہ ولی اللہ کے حوالے سے لکھا کہ پیغمبر ایک مخصوص قوم کو تیار کرتے ہیں اور اسے ایک عالمگیر شریعت کے لیے بنیاد بناتے ہیں۔ پیغمبر ایسے اصول پیش کرتے ہیں جو پوری انسانی معاشرت کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں، لیکن ان اصولوں کا نفاذ اس قوم کے مخصوص حالات، عادات اور معاشرتی خصوصیات کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کے عہد میں بعض مخصوص معاشرتی حالات کے تحت دیے گئے احکام کو ہر آنے والی نسل پر بعینہٖ اسی شکل میں نافذ کرنا ضروری نہیں، اگر ان احکام کا مقصد اور روح اس سے مختلف ہو۔ اصل مقصود انسانی زندگی کی اصلاح اور شریعت کے بنیادی اصولوں کا نفاذ ہے۔

اقبال نے مصطفیٰ صبری کے نام اپنے خط میں شریعت کے مقصد کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا کہ اسلام انسانی نفس اور اس کی مرکزی قوتوں کو ختم نہیں کرتا بلکہ ان کے اظہار اور عمل کے لیے حدود متعین کرتا ہے۔ انہی حدود کے تعین کو اسلامی اصطلاح میں شریعت یا قانونِ الٰہی کہا جاتا ہے۔ اقبال کا بنیادی تصور یہ تھا کہ کائنات جامد نہیں بلکہ مسلسل وسعت پذیر ہے۔ قرآن انسان کو کائنات، گردشِ لیل و نہار اور قدرت کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس لیے انسان کا فرض ہے کہ وہ ان نشانیوں پر غور کرے، علم حاصل کرے اور فطرت کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے نئے ذرائع دریافت کرے۔

چنانچہ ایسا قانون یا ضابطہ جو انسانی زندگی کی ترقی، وسعت اور حرکت کو روک دے، انسان کو نئے علم اور نئی دریافتوں سے دور کر دے اور اسے ماضی میں منجمد کر دے، اسے اسلامی قانون کی روح کے مطابق قرار دینا مشکل ہے۔ اقبال کا یہ بھی یقین تھا کہ جو مذہب جدید سائنسی دور سے پیدا ہونے والے مسائل کا جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور وحدتِ انسانی کے تصور کو آگے نہیں بڑھا سکتا، وہ بالآخر اپنی تاثیر کھو بیٹھے گا۔ ان کے نزدیک اسلام میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کا سامنا کرتے ہوئے انسانیت کے لیے ایک ایسا معاشرتی نظام پیش کرے جس میں ذات، نسل، رنگ، طبقے اور مرتبے کی بنیاد پر امتیاز ختم ہو۔
اسلام کا مقصد انسان کی انسان پر خدائی اور فرد کی فرد پر مطلق حکمرانی کے تصورات کو ختم کرنا اور انسانی آزادی و حریت کو قائم کرنا ہے۔ یہ مذہب استحصال کرنے والوں، سرمایہ دارانہ اجارہ داریوں یا مذہبی پیشواؤں کے مفادات کا محافظ نہیں بلکہ انسانی وقار اور آزادی کا داعی ہے۔

اسی تناظر میں اقبال نے اپنے خطبات میں پیغمبرِ اسلام ﷺ کو قدیم اور جدید دنیا کے درمیان ایک واسطہ قرار دیا۔ وحی کے سرچشمے کے اعتبار سے آپ ﷺ کا تعلق قدیم دنیا سے تھا، لیکن اس وحی کی روح اور اس کے پیدا کردہ فکری منہج کے اعتبار سے آپ ﷺ کا تعلق جدید دنیا سے بھی ہے۔ آپ ﷺ کے ذریعے زندگی پر علم و حکمت کے ایسے نئے سرچشمے منکشف ہوئے جو آنے والی انسانی زندگی کی ضرورتوں کے مطابق تھے۔
اقبال نے تجرباتی اور مشاہداتی منہج پر بھی بہت زور دیا۔ ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو اپنے مسائل کا مطالعہ اپنے زمانے کے حقیقی حالات کی روشنی میں کرنا چاہیے، غلامانہ انداز میں نہیں بلکہ تنقیدی اور تخلیقی انداز میں۔ محض تقلید کافی نہیں؛ مسلمانوں کو نئے مسائل کا نئے انداز سے جائزہ لینا اور علمی و فکری جدت پیدا کرنا ہوگی۔

اسی لیے اقبال کو اسلامی فقہ کی ازسرِنو تدوین کا احساس ہمیشہ رہا۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ مسلسل ان مسائل پر غور کرتے رہے۔ ان کے خطبات اور نوٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی مستند کتاب لکھنا چاہتے تھے جس میں اجتہاد اور اسلامی قانون کی تشکیلِ نو کے موضوع کو تفصیل سے زیرِ بحث لایا جاتا، لیکن وہ یہ کام مکمل نہ کر سکے۔

اب اگر ہم قرآن اور اسلامی فقہ میں موجود احکام کا جائزہ لیں تو انہیں بنیادی طور پر دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: پہلا عبادات اور دوسرا معاشرتی معاملات۔ معاشرتی معاملات میں خاندانی مسائل، مثلاً نکاح، طلاق اور وراثت؛ مالی و تجارتی معاملات، مثلاً بیع؛ اور تعزیری قوانین شامل ہیں۔

اسلامی فقہ کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ابتدائی صدیوں میں مسلمان فقہاء نے بدلتی ہوئی تمدنی ضروریات کے مطابق قانون سازی اور فقہی اجتہاد کا سلسلہ جاری رکھا۔ پہلی صدی ہجری کے وسط سے چوتھی صدی ہجری کے آغاز تک فقہ کے متعدد مکاتبِ فکر اور فقہی مذاہب وجود میں آئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی فقہ ابتدا ہی سے ایک متحرک علمی روایت رہی ہے، جس نے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق نئے سوالات کا جواب تلاش کیا۔
افسوس کہ بعد کے زمانے میں سیاسی غلامی، علمی جمود اور فکری کمزوری نے اس تخلیقی عمل کو بڑی حد تک روک دیا۔

اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شریعت اسلامی کو محض خوف، جبر یا جامد احکام کے مجموعے کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اس کے بنیادی مقاصد یعنی عدل، رحمت، حکمت، انسانی آزادی اور معاشرتی مصلحت کو سامنے رکھیں۔ اجتہاد کا دروازہ اسی لیے اہم ہے کہ انسانی مسائل مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ اگر زندگی آگے بڑھتی رہے اور قانون ماضی کی ایک ہی صورت میں منجمد ہو جائے تو دونوں کے درمیان فاصلے پیدا ہونا ناگزیر ہیں۔

اسلامی قانون کی اصل روح یہی ہے کہ وہ انسانی زندگی کی رہنمائی کرے، زندگی کو مفلوج نہ کرے؛ عدل قائم کرے، ظلم کو تحفظ نہ دے؛ رحمت پیدا کرے، زحمت نہیں؛ اور انسان کو علم، آزادی، تحقیق اور ترقی کی طرف لے جائے۔ یہی وہ فکری بنیاد ہے جس پر شریعت، اجتہاد اور عصرِ حاضر کے باہمی تعلق کو سمجھا جا سکتا ہے۔