وقت کی روانی بہت سی یادوں کو دھندلا دیتی ہے، مگر بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی زندگی، فکر اور کردار زمانے کی گرد سے اوجھل ہونے کے بجائے مزید روشن اور نمایاں ہو جاتے ہیں۔ میرے والد پروفیسر وارث میر انہی غیر معمولی شخصیات میں سے ایک تھے۔ان کی 39 ویں برسی کے موقع پر میں صرف ایک شفیق والد، ممتاز استاد یا ایک جرأت مند صحافی کو یاد نہیں کر رہی بلکہ ایک ایسے عہد ساز معلم، فکری رہنما اور قومی دانشور کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں جن کی فکر آج بھی پاکستان کے فکری اور جمہوری افق پر اپنی بھرپور معنویت کے ساتھ موجود ہے۔ وقت گزرتا رہتا ہے، سیاسی اور سماجی منظرنامے تبدیل ہو جاتے ہیں، مگر ان جیسے رہنماؤں کے افکار، آواز اور کردار تاریخ کے حافظے میں زندہ رہتا ہے۔
پروفیسر وارث میر کی برسی میرے لئے محض ایک محبوب والد کی یاد تازہ کرنے کا موقع نہیں بلکہ ایک ایسے استاد،معلم، دانشور، صحافی اور فکری رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا لمحہ ہے جس کی فکری سوچ تحریری شکل میں آج بھی ہماری قومی زندگی میں رہنمائی کے لئے پوری معنویت کے ساتھ سانس لے رہی ہے اور قائم و دائم ہے۔
پروفیسر وارث میر کا تعلق ان اہلِ فکر میں سے تھا جو علم کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کا یقین تھا کہ باشعور قوموں کی تعمیر طاقت، دولت یا اقتدار سے نہیں،بلکہ آزاد ذہنوں، فکری طور پر بالغ اور جرأت مند شہریوں سے ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ ایسی قوم کی تربیت اور تشکیل تھا جو سوال کرنے کا حوصلہ رکھے، دلیل کی حرمت کو سمجھے اور سچائی کی تلاش کو اپنی فکری اور اخلاقی ذمہ داری تصور کرے۔انہوں نے اپنی پوری زندگی تدریس، صحافت اور فکری رہنمائی کے ذریعے اسی مقصد کے لئے وقف کیے رکھی۔ وہ اس نسل کی نمائندگی کرتے تھے جس نے پاکستان میں جمہوری شعور، فکری آزادی اور تنقیدی سوچ کے فروغ کے لئے نہ صرف قلم اٹھایا بلکہ اس کی ایک بھاری قیمت بھی ادا کی۔ ایک ایسے دور میں جب اختلافِ رائے کو اکثر ناپسند کیا جاتا تھا اور اصولی موقف اختیار کرنا آسان نہ تھا، انہوں نے حق گوئی، علمی دیانت اور جمہوری اقدار کا دامن نہیں چھوڑا۔
ان کا ایمان تھا کہ اختلافِ رائے کسی معاشرے کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی فکری زندگی کی علامت ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ زندہ معاشرے وہی ہوتے ہیں جہاں سوال اٹھانے کی آزادی ہو، جہاں دلیل کو طاقت پر فوقیت حاصل ہو اور جہاں شہری اپنے خیالات کے اظہار میں خوف محسوس نہ کریں۔ان کی تحریریں، تقاریر اور تدریسی خدمات انہی اصولوں اور افکار کی عملی تعبیر تھیں۔بطور استاد، انہوں نے ہزاروں طلبہ کی زندگیوں پر اثر ڈالا۔ ان کا کلاس روم صرف لیکچر دینے کی جگہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری تجربہ گاہ تھی۔ جہاں نوجوان ذہنوں کو سوچنے، سوال کرنے اور اپنی رائے کے اظہار کا حوصلہ ملتا تھا۔ وہ طلبہ کو محض نصاب نہیں پڑھاتے تھے بلکہ انہیں ایک ذمہ دار اور باکردار شہری بننے کی تربیت دیتے تھے۔ ان کے شاگرد آج ملک اور بیرونِ ملک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن لیکن پروفیسر وارث میر کی اصل کامیابی کی میراث یہ ہے کہ انہوں نے اپنے شاگردوں کے دلوں اور ذہنوں میں دیانت، جرأتِ اظہار اور آزادی سوچ کی شمع روشن کی۔
صحافت کے میدان میں ان کی خدمات بھی غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان کے کالم محض سیاسی تبصرے نہیں ہوتے تھے بلکہ قومی شعور کی تشکیل کا ذریعہ بنتے تھے۔ وہ صحافت کو اقتدار کے ایوانوں کی ترجمان نہیں بلکہ عوام کے حقِ آگہی کی محافظ اوراُن کے ضمیر کی آواز سمجھتے تھے۔ ان کی تحریروں میں اصول پسندی، فکری گہرائی اور قومی درد نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آج بھی ان کے مضامین پڑھے جائیں تو وہ محض ماضی کا ریکارڈ محسوس نہیں ہوتے بلکہ حال کے سوالات سے مکالمہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، جن میں سے بیشتر کے جوابات ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لائے جا سکے۔میرے والد اپنے عہد سے کہیں آگے کی بصیرت رکھتے تھے۔ان کی تحریر و تحقیق آج بھی اس بات کی زندہ مثال ہے۔ وہ ایسے پاکستان کا خواب دیکھتے تھے جہاں آئین کی بالادستی ہو، جمہوری ادارے مضبوط ہوں، تعلیم آزاد فکر کو فروغ دے، صحافت سچائی کی علمبردار ہو اور شہری ایک دوسرے کے اختلافِ رائے کا احترام کریں۔ آج کے فکری انتشار،عدم برداشت اور تعلیمی بحران کے اس دور میں پروفیسر وارث میر کی تحقیقی فکر اور دور اندیشانہ سوچ پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر محسوس ہوتی ہے۔میرے لئے ان کی شخصیت صرف ایک قومی دانشور یا ممتاز استاد کی نہیں، بلکہ ایک ایسے والد کی بھی تھی جنہوں نے میری زندگی کی فکری اور اخلاقی بنیادیں ایک راہنما کے طور پر استوار کیں۔ شعبہئ تعلیم کو بطور پیشہ اختیار کرنا میرے لئے محض ایک پیشہ ورانہ انتخاب نہیں تھا بلکہ اپنے والد کی فکری میراث سے اپنی وابستگی کا اظہار بھی ہے۔ میں نے ہمیشہ انہی اصولوں کو اپنا رہنما بنایا جن پر میرے والد خود کاربند رہے۔ انہی سے سیکھا کہ علم کا حقیقی مقصد انسان کی کردار سازی اور معاشرے میں مثبت سوچ سے تبدیلی پیدا کرنا ہے۔
تعلیم وتحقیق، تعلیمی پالیسی سازی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور ابتدائی بچپن کی تعلیم کے فروغ کے سلسلے میں میری تمام کاوشوں میں ان کی تربیت کی جھلک موجود ہے۔ پیشہ ورانہ ذمہ داری،فکری دیانتداری اور خدمت ِخلق وہ اقدار ہیں جو مجھے ان سے ورثے میں ملیں اور آج بھی میری رہنمائی کرتی ہیں۔اکلوتی بیٹی ہونے کے ناطے مجھے ان کی غیرمعمولی محبت، اعتماد اور حوصلہ افزائی نصیب ہوئی۔ انہوں نے کبھی میری صلاحیتوں کو صنفی حدود میں محدود نہیں کیا بلکہ ہمیشہ مجھے آگے بڑھنے، سیکھنے اور اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کی ترغیب دی۔ میرے لئے وہ صرف والد نہیں تھے؛ وہ میرے دوست، مشفق استاد اور رازداں بھی تھے۔ زندگی کے ہر اہم مرحلے پر ان کی رہنما شخصیت میرے لئے روشنی کا مینار ثابت ہوئی۔
مجھے آج بھی وہ لمحے یاد ہیں جب ان کے انتقال کے برسوں بعد ان کے شاگرد، ساتھی اساتذہ یا قارئین ان کا ذکر کرتے تو ان کی آنکھوں میں عقیدت، احترام اور محبت کی ایک خاص چمک دکھائی دیتی تھی۔ تب مجھے احساس ہوتا تھا کہ میرے والد نے صرف کتابیں نہیں پڑھائیں، صرف کالم نہیں لکھے، بلکہ انسانوں کے دلوں میں جگہ بنائی تھی۔ یہ اعزاز ہر کسی کے حصے میں نہیں آتا۔
آج اگرچہ وہ ہمارے درمیان جسمانی طور پر موجود نہیں، لیکن ان کی فکر، ان کی تحریریں، ان کے شاگرد اور ان کے قائم کردہ اصول زندہ ہیں۔ یہی کسی بڑے استاد، دانشور اور رہنما کی اصل کامیابی ہوتی ہے کہ اس کی آواز وقت کے شور میں گم نہ ہو بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے رہنمائی کا ذریعہ بنتی رہے۔ان کی برسی میرے لئے صرف یاد کا دن نہیں بلکہ تجدید ِ عہد کا دن بھی ہے۔ یہ ان اقدار کو پھر سے یاد کرنے کا موقع ہے جن کے لئے انہوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی: علم، سچائی، فکری آزادی، جمہوری شعور، اخلاقی جرأت، انسانی وقار اور مکالمے کی ثقافت۔
اگر ہم بحیثیت قوم ان اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنا سکیں تو یہی ان کیلئے سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہو گا۔ کسی مفکر کے زندہ رہنے کا سب سے خوبصورت انداز یہی ہے کہ اس کے خیالات نسل در نسل منتقل ہوتے رہیں اور معاشرے کو روشنی فراہم کرتے رہیں۔ میرے والد پروفیسر وارث میر کی پُرفکر تحریریں آج بھی ہمیں سوال کرنے، سچ کا ساتھ دینے، اختلاف کو برداشت کرنے اور ایک بہتر، زیادہ منصفانہ اور روشن پاکستان کا خواب دیکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ یہی ان کی سب سے پائیدار، قیمتی اور روشن میراث ہے۔