پاکستان کی صحافتی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اپنے قلم، کردار اور نظریات سے آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال قائم کی۔ ان نابغۂ روزگار شخصیات میں پروفیسر وارث میر کا نام ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔ وہ صرف ایک ممتاز صحافی، دانشور اور استاد ہی نہیں تھے بلکہ ایسے صاحبِ ضمیر مفکر تھے جنہوں نے فوجی آمریت، فکری جبر، مذہبی انتہاپسندی اور معاشرتی ناانصافی کے خلاف اپنے قلم کو ہتھیار بنایا۔ انہوں نے ضیاء الحق کی فوجی آمریت کے تہہ در تہہ اندھیروں میں اپنے لہو سے سچائی کا چراغ روشن رکھا اور ثابت کیا کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے حق اور سچ کہنا ہی ایک اہلِ قلم کی اصل ذمہ داری ہے۔
پاکستانی تاریخ کے اس سیاہ دور میں، جب اختلافِ رائے کو جرم سمجھا جاتا تھا، سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارے جاتے تھے، اخبارات پر سنسرشپ نافذ تھی اور خوف کا راج قائم تھا، پروفیسر وارث میر نے آمریت کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کی آمرانہ پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی اور ہر قسم کے دباؤ، دھمکی اور انتقامی کارروائیوں کے باوجود حق گوئی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ وہ جانتے تھے کہ اس راستے کی قیمت بہت بھاری ہے، مگر ان کے نزدیک ضمیر کا سودا کسی بھی منصب یا مفاد سے کہیں زیادہ قیمتی تھا۔ ضیاء الحق کے دور میں جہادی سوچ، فرقہ واریت اور تنگ نظری کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی جبکہ روشن خیالی، تنقیدی فکر اور آزادانہ اظہارِ رائے کو جرم تصور کیا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں پروفیسر وارث میر نے نہ صرف آمریت بلکہ مذہب کے نام پر قائم کی جانے والی فکری اجارہ داری کو بھی چیلنج کیا۔
ان کا مؤقف تھا کہ اسلام اپنی اصل روح میں عدل، آزادی، رواداری، علم اور انسان دوستی کا مذہب ہے، اس لیے اسے سیاسی مقاصد یا آمریت کے تحفظ کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ وارث میر ان دانشوروں میں شامل تھے جو ملائیت اور مذہبی انتہا پسندی پر تنقید کرتے تھے، مگر اسلام سے ان کی محبت غیر متزلزل تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات انسان کی آزادی، وقار اور حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔
ان کی تحریروں میں یہ تصور بار بار سامنے آتا ہے کہ قرآن مجید حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ بالخصوص حقوق العباد کی ادائیگی پر زور دیتا ہے، اور ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد انصاف، مساوات اور انسانی حرمت پر استوار ہونی چاہیے۔
پروفیسر وارث میر کی فکری وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی تحریروں میں اخوان الصفا، الکندی، امام غزالی، ابنِ رشد، شاہ ولی اللہ، سرسید احمد خان اور علامہ اقبال سمیت مسلم دنیا کے عظیم مفکرین کے افکار کا گہرا مطالعہ پیش کیا۔ وہ مسلمانوں میں سائنسی طرزِ فکر، تحقیق، استدلال اور اجتہاد کے فروغ کے حامی تھے۔ ان کے نزدیک جدید سائنس اور اسلام ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ دونوں انسان کو حقیقت کی تلاش کا راستہ دکھاتے ہیں۔
انہوں نے اس غلط تصور کی بھی بھرپور تردید کی کہ شاہ ولی اللہ، سرسید احمد خان اور علامہ اقبال جیسے مفکرین مذہبی تنگ نظری کے علمبردار تھے۔ وارث میر کے نزدیک یہ تمام شخصیات مسلمانوں کی فکری بیداری، اصلاح اور ترقی کی علمبردار تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ ان مفکرین کے افکار کو جان بوجھ کر مسخ کیا گیا تاکہ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو کمزور کیا جا سکے۔
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے بارے میں بھی پروفیسر وارث میر نے نہایت متوازن مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقبال رسوم پرستی کے نہیں بلکہ ایسے تصوف کے حامی تھے جو انسان کو عمل، جدوجہد اور خودی کا درس دیتا ہے۔ اسی لیے وارث میر نے ان حلقوں کے دلائل کو رد کیا جو اقبال کو محض ایک روایتی مذہبی دانشور کے طور پر پیش کرتے تھے۔ وارث میر نے پاکستان میں فوج کے سیاسی کردار پر بھی نہایت مدلل انداز میں لکھا۔ ان کے مطابق ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان کے لیے آئین کی بالادستی، جمہوریت اور سول اداروں کا استحکام ناگزیر تھا۔ وارث میر اس بنیادی سوال کا جواب بھی تلاش کرتے رہے کہ پاکستان آزادی کے چند برس بعد ہی سیاسی عدم استحکام، آمریت اور فکری جمود کا شکار کیوں ہو گیا۔ ان کے مطابق قیامِ پاکستان کے بعد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی امید تھی جہاں آزادیِ فکر، اجتہاد، تحقیق اور اظہارِ رائے کو فروغ ملے گا، مگر سیاسی قیادت کی کمزوری، اقتدار کی کشمکش اور بیرونی مداخلت نے اس خواب کو ادھورا چھوڑ دیا۔
ان کا موقف تھا کہ پاکستان کا مستقبل صرف اسی صورت روشن ہو سکتا ہے جب ہمارے معاشرے میں تنقیدی شعور، آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار، برداشت اور علمی روایت کو فروغ دیا جائے۔ وہ سمجھتے تھے کہ فکری آزادی کے بغیر نہ مذہبی احیاء ممکن ہے اور نہ ہی قومی ترقی۔ صحافت کے میدان میں بھی پروفیسر وارث میر کا کردار غیر معمولی تھا۔ وہ ایک بے باک صحافی تھے جنہوں نے ہمیشہ سچائی کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔ ان کا مشہور قول تھا کہ “لکھنے والے کا قلم عوام کی امانت ہوتا ہے۔” اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے کبھی اپنے قلم کو اقتدار، خوف یا ذاتی مفادات کے تابع نہیں ہونے دیا۔ ان کی تحریروں میں تحقیق، استدلال، دیانت اور فکری گہرائی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
پروفیسر وارث میر ایک قابل تعظیم استاد بھی تھے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ ابلاغیات کے سربراہ رہے اور تقریباً 25 برس تک صحافت کے طلبہ کی علمی اور فکری تربیت کرتے رہے۔ ان کے بے شمار شاگرد بعد میں پاکستان کے ممتاز صحافی، کالم نگار، اساتذہ اور تجزیہ نگار بنے۔ تدریس کے ساتھ ساتھ وہ ملک کے اہم اخبارات و جرائد میں باقاعدگی سے لکھتے رہے اور متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔ انہوں نے سیاست، مذہب، فلسفہ، تاریخ، تعلیم، نفسیات، ادب، سائنس، عورتوں کے حقوق، جمہوریت اور انسانی آزادی جیسے بے شمار موضوعات پر قلم اٹھایا۔ ان کی تحریروں کا بنیادی وصف یہ تھا کہ وہ محض تنقید نہیں کرتے تھے بلکہ ہر مسئلے کا فکری اور عملی حل بھی پیش کرتے تھے۔ وہ پاکستان کو محمد علی جناح، شاہ ولی اللہ اور ڈاکٹر اقبال کے افکار کی روشنی میں ایک جمہوری، آئینی، روشن خیال اور ترقی پسند ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بھی وارث میر کا کردار نہایت نمایاں تھا۔ ضیاء الحق کے دور میں جب خواتین کے بنیادی حقوق محدود کیے جا رہے تھے، انہوں نے پوری جرات کے ساتھ ان کے حق میں آواز بلند کی۔ ان کے نزدیک کسی بھی معاشرے کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو مساوی حقوق، عزت اور مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔
پروفیسر وارث میر کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ سچائی وقتی طور پر دبائی جا سکتی ہے مگر اسے ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی خدمات کو مسلسل خراجِ تحسین پیش کیا جاتا رہا۔ انہیں انسانی حقوق کے حوالے سے خصوصی اعزازات سے نوازا گیا، بعد از وفات انہیں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز “ہلالِ امتیاز” سے سرفراز کیا گیا، جبکہ بنگلہ دیش نے بھی صحافت اور انسانی حقوق کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں “فرینڈز آف بنگلہ دیش” ایوارڈ عطا کیا۔ آج اگرچہ پروفیسر وارث میر ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی تحریریں، افکار اور نظریات آج بھی زندہ ہیں۔ وہ پاکستان کی سیاسی، فکری اور صحافتی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ ان کی زندگی اس امر کا ثبوت ہے کہ اہلِ قلم کا اصل فرض اقتدار کی خوشنودی نہیں بلکہ حق اور سچ کا ساتھ دینا ہے۔ جب تک پاکستان میں آزادیِ اظہار، جمہوریت، آئین کی بالادستی اور روشن خیالی کی جدوجہد جاری رہے گی، پروفیسر وارث میر کا نام احترام، جرات، دیانت اور حق گوئی کی علامت کے طور پر زندہ رہے گا۔